تحریر:مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی
حوزہ نیوز ایجنسی| ۲۲ بہمن وہ روشن دن ہے جب اُفقِ ایران پر انقلابِ اسلامی کا سورج نمودار ہوا، اور کئی دہائیوں کی جدوجہد کے بعد امام خمینیؒ کی بصیرت افروز قیادت میں شاہنشاہی نظام کا خاتمہ اور اسلامی جمہوریہ کے نئے نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ دن ایران کی تاریخ کا ایک سنگ میل ہے، جس نے ۲۵۰۰ سالہ سلطنت کے تسلط کو زمین بوس کر دیا۔
ایران کے قومی تقویم میں ۲۲ بہمن کو انقلابِ اسلامی کی فتح کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن اُن تاریخی واقعات کی یاد دلاتا ہے جن کے نتیجے میں شاہنشاہی نظام کا زوال اور اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا۔ انقلاب سے قبل ایران محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت کے زیرِ اثر تھا۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں عوام کی بیداری، وسیع احتجاجات اور امام خمینیؒ کی قیادت نے اس جمود زدہ نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ پہلوی حکومت کی پالیسیاں ایرانی قوم کی دینی، ثقافتی اور سماجی شناخت کے خلاف تھیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں عوامی ردعمل پیدا ہوا اور آخرکار شاہ فرار ہوا۔
۲۲ بہمن ایرانی عوام کے لیے محض ایک تاریخی دن نہیں، بلکہ فکری، روحانی اور انقلابی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ دن عوام کی اس فتح کی یاد دلاتا ہے جو انہوں نے آمرانہ نظام کے خلاف حاصل کی۔ اس دن نے قومی اتحاد، عوامی ہم آہنگی اور اُن اقدار کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کیا، جن میں آزادی، استقلال اور عدلِ اجتماعی سرفہرست ہیں۔
۲۲ بہمن ۱۳۵۷ (۱۱ فروری ۱۹۷۹) کو امام خمینیؒ کی تہران واپسی کے ساتھ انقلاب اسلامی اپنی کامیابی کی آخری منزل پر پہنچا اور اس دن کو سرکاری طور پر ’’یومِ فتح‘‘ قرار دیا گیا۔ ہر سال ایرانی عوام اس دن کو محض سیاسی فتح کے طور پر نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی عہد کے طور پر بھی مناتے ہیں، اور پورے جوش و جذبے کے ساتھ انقلاب کے اصولوں کے ساتھ اپنی وفاداری کی تجدید کرتے ہیں۔
یہ انقلاب محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ فکری، روحانی اور اخلاقی بیداری کا وہ لمحہ تھا جس نے ایک قوم کو اس کی اصل پہچان لوٹا دی۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں اٹھنے والی تحریک، رشد و ہدایت کی صدا بن کر ابھری جس نے استبداد اور غلامی کے بت پاش پاش کر دیے۔ ۲۵۰۰ سالہ شاہنشاہی نظام کے زوال کے بعد عوامی ارادہ، اسلامی اقدار اور خودمختاری نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
یہی وجہ ہے کہ ۲۲ بہمن ہر سال عہدِ وفا کی تجدید اور انقلاب کی عظمت کا دن بن کر منایا جاتا ہے۔ عوام سڑکوں پر نکل کر اس بہارِ جاوداں کا جشن مناتے ہیں جو امام خمینیؒ کے افکار سے پھوٹی اور جس نے ایران کو ابدی نور عطا کیا۔ یہ دن اس حقیقت کا اعلان ہے کہ جب قیادت حق پر ہو اور قوم بیدار ہو، تو انقلاب زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم،
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا۔
۲۲ بہمن، انقلابِ اسلامی کی کامیابی کی سالگرہ کے موقع پر میں امام خمینیؒ، رہبر معظم انقلاب، شہدائے اسلام اور تمام خادمین جمہوری اسلامی ایران کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان کے اصولوں کے ساتھ تجدید عہد کرتا ہوں۔









آپ کا تبصرہ